قبرص میں ایک فوجی اڈے پر تمام آپریشن اس وقت معطل کرنا پڑے، جب لینڈنگ کرتے ہوئے ایک برطانوی جنگی طیارے سے دو میزائل اس فوجی اڈے میں جا گرے، تاہم یہ میزائل پھٹے نہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قبرص سے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کارروائیاں کرنے والے برطانوی جنگی طیاروں کے آپریشنز اس وقت موقوف کرنا پڑے، جب لینڈنگ کرتے ہوئے ایک لڑاکا طیارے سے دو میزائل اس فوجی اڈے پر گر گئے۔ حکام کے مطابق گرنے والے یہ میزائل پھٹے تو نہیں، تاہم اس واقعے کے بعد اس فوجی اڈے کو تمام تر سرگرمیوں کے لیے بند کرنا پڑ گیا۔
اکروتِری کے علاقے میں واقع رائل ایئر بیس سے شمالی عراق میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی حملے کیے جاتے ہیں۔ اس فوجی اڈے کے ترجمان کرسٹیان گرے Kristian Gray کے مطابق بدھ 15 جولائی کی صبح برطانوی لڑاکا طیارے ٹورنیڈو سے دو بریمسٹون میزائل غلطی سے گر گئے۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ جہاز فضائی کارروائی کے بعد واپس لوٹا تھا یا معمول کی پرواز کے بعد۔
اپنے بیان میں اس ترجمان کا کہنا تھا، ’میں تصدیق کرتا ہوں کہ لینڈنگ کے دوران ٹورنیڈو طیارے سے دو میزائل الگ ہو گئے۔‘
انہوں نے بتایا کہ یہ میزائل پھٹے نہیں اور اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔ ’یہ ایک مشکل لینڈنگ تھی، جس کی وجہ سے میزائل جہاز سے الگ ہو گئے۔‘
گرے نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس واقعے سے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف اس فوجی اڈے سے سرگرمیوں مکمل طور پر رک گئی ہیں یا نہیں، تاہم ان کا کہنا تھا، ’رن وے اس وقت بند ہے۔‘
خیال رہے کہ قبرص میں سابقہ نوآبادیاتی طاقت برطانیہ کے دو فوجی اڈے قائم ہیں، جن میں سے ایک اکروتِری میں واقع ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی کارروائیوں کے لیے امریکا کی جانب سے تشکیل دیے گئے بین الاقوامی اتحاد میں برطانوی شمولیت کے بعد ستمبر 2014 سے یہ فوجی اڈہ اس شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں