![]() |
لاہور (خصوصی رپورٹ ،قاری محمد فاروق )عالم اسلام کے ممتاز مصری قاری الشیخ سید متولی عبدالعال68 سال کی عمر میں قضائے الہی سے انتقال کرگئے، إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، ان کی نماز جنازہ ان کی جائے پیدائش مصر ی صوبے الشرقیہ کے گاؤں الفدادنہ میں جمعرات کے روز بعد نماز عصر ادا کی گئی اور وہیں آبائی قبرستان سپرد خاک کردیا گیا،قاری الشیخ سیدمتولی عبدالعال عصر حاضر کے ترتیل میں واحد قاری القرآن تھے جن کی براہ راست تلاوت دنیا بھر میں سب سے زیادہ سنی جاتی تھی اس سے پہلے یہ اعزاز بھی مصری قاری الشیخ عبدالباسط عبدالصمد مرحوم کوحاصل تھاجو30نومبر 1988میں انتقال کرگئے تھے،
حالات زندگی
قاری الشیخ سیدمتولی عبدالعال مصر کے تیسرے بڑےصوبے الشرقیہ کے شہر فاقوس کے گاؤں الفدادنہ میں26اپریل1947میں پیدا ہوئے،آپ کے والد زراعت سے وابستہ تھے،انہوں نے الشیخ سیدمتولی عبدالعال کو 6سال کی عمر میں گاؤں کے پرائمری اسکول میں داخل کروادیا، الشیخ سیدمتولی عبدالعال نے 12سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا،اس کے بعد قاری الشیخ سیدمتولی عبدالعال کی تلاوت کے چرچے مصری صوبے الشرقیہ میں ہونے لگے اور بڑی تعداد میں لوگ ان کی تلاوت سننے کے لئے آتے اور مختلف محافل میں انہیں مدعو کرتے،
بعد ازاں قاری الشیخ سیدمتولی عبدالعال مصر کے دیگر صوبوںمیں بھی مشہور ہوگئے اور مصر کے ممتاز قراء الشيخ مصطفى إسماعيل ،الشيخ البنا ،الشيخ عبد الباسط ،الشيخ حمدی الزامل اورالشيخ السعيد عبد الصمد الزناتی کی طرح صف اول کے قراء میں شمار ہونے لگے،1980میں قاری الشیخ سیدمتولی عبدالعال کو عالمگیر شہرت حاصل ہوگئی اور انہوں نے عرب ممالک سمیت دنیا کے دیگر اسلامی ملکوں کے دورےشروع کئے،جہاں ان کی آواز کیسٹوں میں محفوظ ہونے لگی،اور مختلف ممالک کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشر ہونا شروع ہوگئی، قاری الشیخ عبدالمتولی عبدالعال کو دنیا بھر سے رمضان المبارک کے دوران مدعو کیا جاتا اور ان کے چاہنے والے ہزاروں لوگ ان کی تلاوت سننے کے لئے امڈ آتے،
قاری الشیخ سیدمتولی عبدالعال نے کئی بار پاکستان کے دورے کئے
قاری الشیخ سیدمتولی عبدالعال نے کئی بار پاکستان کے دورے کئے اور مختلف شہروں میں ہونے والے عالمی محافل قرآت
میں انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، قاری الشیخ سیدمتولی عبدالعال جب تلاوت کرتے تو پوری محفل پر رقت طاری ہوجاتی اورجب وہ آیت کو اپنے مخصوص انداز میں لمبے سانس میں پڑھتے تو سننے والوں کی بھی سانسیں رک جاتی تھیں اور جب اختتام ہوتا تو ہر آنکھ پرنم ہوجاتی تھی
تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں