افغانستان کی حکومت نے طالبان کے ساتھ پہلے باضابطہ مذاکرات کو کامیاب قرار دیا ہے جس میں دونوں جانب سے قیامِ امن کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بات افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت کرزئی نے پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں مذاکرات میں شرکت کے بعد دارالحکومت کابل پہنچنے پر بتائی۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے اور ان مذاکرات میں جو اہم فرق دونوں جانب کی ٹیموں کا سرکاری ہونا تھا۔
افغانستان کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس بات پر قائل ہیں کہ جس ٹیم سے مذاکرات کیے گئے ہیں وہ طالبان رہنماؤں کی طرف سے بھیجے گئے نمائندوں پر مشتمل تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ لگتا تھا کہ یہ ٹیم حقانی نیٹ ورک کی بھی نمائندگی کر رہی تھی جو طالبان کی اتحادی تنظیم ہے۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق افغان حکومت کے وفد کے ایک ارکان نے کہا کہ طالبان نے مذاکرات کے پہلے دور میں افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی، اقوام متحدہ کی پابندیوں اور جنگی قیدیوں کے بارے میں بات کی۔
پاکستان کے سیاحتی مقامی مری میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور چین کے اراکین کو باضابطہ مبصر کا درجہ حاصل تھا۔
افغانستان کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور عید کے بعد ممکنہ طور پر چین میں ہو گا۔
واضح رہے کہ بدھ کو مذاکرات کے حوالے سے افغان طالبان نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی تنظیم اپنی پالیسیوں میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں لائی ہے۔
ہماری نامہ نگار عنبر شمسی نے بتایا کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’پاکستان میں افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت بہت اہم پیش رفت ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ فریقین کے درمیان پہلی بار براہِ راست بات چیت ہوئی ہے۔‘
پاکستان کے خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چودھری اس ملاقات کے معاون تھے۔
قاضی خیل اللہ نے کہا کہ ’بات چیت کے دوران ماحول انتہائی خوش گوار رہا اور فریقین نے رمضان کے بعد دوبارہ ملاقات کا وعدہ کیا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس ملاقات میں پاکستان کا کردار تعاون فراہم کرنا تھا اور پاکستان کی نمائندگی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری نے کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے کردار کو امریکہ اور چین نے سراہا ہے۔
جب قاضی خیل اللہ سے پوچھا گیا کہ افغان طالبان کے وفد میں کون کون شامل تھا، ان انہوں جواب دیا کہ پاکستان اس بارے میں مزید بیان نہیں دینا چاہتا۔
’میں اس وقت نام وغیرہ نہیں بتا سکتا۔ اگر آپ دفترِ خارجہ کے اس بارے میں سات جولائی کو جاری ہونے والے بیان کو دیکھیں تو اس میں لکھا گیا تھا کہ چین اور امریکہ کے نمائندوں نے بھی اس ملاقات میں شرکت کی تھی۔‘

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں