اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن کے تمام اراکین کو متنبہ کیا ہے کہ ان کے اٹھائے ہوئے سوالات کے شفاف جواب دیں ورنہ وہ ایک بار پھر سڑکوں میں نکل آئیں گے۔
ای سی پی کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں سامنے آنے والی کوتاہیوں کے حوالے سے بھیجے گئے اپنے خط کے جواب پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نہ صرف پاکستانی بلکہ ایک اہم سیاسی جماعت کے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے ہونے سوالات کرنے کا حق ہے۔
پی ٹی آئی سربراہ نے کہا کہ ان کے وکلاءنے الیکشن کمیشن کو خط ارسال کرکے سپریم کورٹ کے تین رکنی کمیشن کی رپورٹ میں سامنے آنے والی " غلطیوں" اور " کوتاہیوں" پر سوالات کیے تھے مگر ای سی پی کا جواب ایک " مذاق" ہے۔
انہوں نے کہا " میرا خط جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو دیکھ کر مرتب کیا گیا تھا جس میں قابل احترام ججز نے دریافت کیا تھا کہ ای سی پی نے اپنا کام درست طریقے سے نہیں کیا"۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خط کے جواب میں ای سی پی نے ایک جواب ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے " الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور کوتاہیوں کی وجوہات جاننے کے لیے ایک داخلی انکوائری کرائے گا"۔
عمران خان نے کہا " وہ کہہ رہے ہیں کہ میں یہ سوالات کرنے والا کون ہوتا ہو؟ میں اس جماعت کا سربراہ ہوں جس نے کروڑوں ووٹ لیے، میں جوابات کو حاصل کرنے کا حق رکھتا ہوں"۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ای سی پی نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک اور ای سی پی سے متعلق ان کے چالیس نکات کی توہین کی ہے۔
تاہم عمران خان نے کہا کہ وہ کمیشن کو درست کرنے کے لیے تمام قانونی ذرائع استعمال کریں گے اور تمام فورمز پر اس کے اراکین کے خلاف احتجاج کیا جائے گا " میں پارلیمنٹ میں جاﺅں گا اور تمام قانونی ذرائع استعمال کروں گا، میں گلیوں میں نہیں جانا چاہتا تو مجھے اس پر مجبور نہ کیا جائے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ای سی پی کے باہر بھی احتجاج کرسکتے ہیں " جب ہر اسٹیک ہولڈرز نے دعوے کیے کہ ای سی پی بڑے پیمانے پر بدانتظامیوں کا ذمہ دار ہے، اکیس سیاسی جماعتوں نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کیا، تو کیا ادارے کو اس حوالے سے ٹاسک پر کام نہیں کرنا چاہئے؟"
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ صرف مسلم لیگ ن کو ہی موجودہ الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے اور اس سے ان کے یہ یقین پختہ ہوا ہے کہ حکمران جماعت نے ای سی پی کے ساتھ ملکر " میچ فکس" کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے شاہ محمود قریشی کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ تمام جماعتون سے مل کر انہیں اکھٹا کریں تاکہ ای سی پی پر عدم اعتماد کے حوالے سے آواز بلند کی جاسکے ۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں