دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح آج پاکستان میں بھی آبادی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ لیکن ملکی آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کی بدولت مسائل کا ادراک نہ ہونے کے برابر ہے۔
لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں سوشل سائنسز فیکلٹی کے ڈین اور انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ذکریا ذاکر کے مطابق یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے مردم شماری نہ ہو نے کی وجہ سے ملکی آبادی کے درست اور حتمی اعدادوشمار میسر نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں پتا ہی نہیں ہے کہ یہاں کتنے لوگ رہتے ہیں، کہاں کہاں رہتے ہیں، لوگوں کی شہروں کی طرف نقل مکانی کس رفتار سے جاری ہے۔ سارے منصوبے اور ترقیاتی پروگرام محض اندازوں پر بنائے جا رہے ہیں۔‘‘
تاہم آبادی سے متعلق ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی موجودہ آبادی 19 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ اگر آبادی اسی شرح سے بڑھتی رہی تو 2050ء میں پاکستان 30 کروڑ کی آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جائے گا۔ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح ایک اعشاریہ نو فیصد بتائی جاتی ہے جبکہ ایران میں یہ شرح ایک اعشاریہ دو فیصد، بنگلہ دیش میں ایک اعشاریہ تین فیصد، ملائیشیا میں ایک اعشاریہ سات فیصد ،انڈونیشیا میں ایک اعشایہ دو فیصد، بھارت میں ایک اعشاریہ پانچ فی صد اور سری لنکا میں ایک فیصد ہے۔
پاکستان کی وزیر برائے بہبود آبادی پنجاب بیگم ذکیہ شاہنواز کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ملک کی آبادی میں چھ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ صوبہ سندھ میں تو یہ اضافہ سات گنا تک ہوا ہے۔ پاکستانی آبادی کا پانچواں حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے اور ہر 20 منٹ میں ایک عورت زچگی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنی جان کھو رہی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافے کی وجوہات میں زیادہ بچے پیدا کرنے کا رجحان (بعض علاقوں میں بچوں کو کمائی کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے)، کم عمری کی شادیاں، مانع حمل سہولیات کی عدم دستیابی اور لڑکے پیدا کرنے کی خواہش وغیرہ بھی شامل ہیں۔
پاپولیشن کونسل پاکستان کے ڈائریکٹر پروگرامز ڈاکٹر علی محمد میر بتاتے ہیں کہ حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں 15 سے 50 سال تک کی عمر کی ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت بچوں کی پیدائش میں وقفہ چاہتی ہے لیکن اس کی رسائی فیملی پلاننگ کی سہولیات تک نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ’’اس مسئلے کے حل کے لیے حکومتی کمٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ ہمیں فیملی پلاننگ کی سہولتوں کو صحت کی سہولتوں کا حصہ بنا کر عام آدمی کے لیے دستیاب کرنا ہوگا۔ ہم ضبط ولادت کی بات نہیں کرتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تعداد اور وقت کا تعین خود کرسکیں تاکہ وہ اپنے وسائل کے مطابق اتنے بچے پیدا کریں جنہیں وہ صحت، تعلیم اور خوراک کی مناسب سہولتیں باسانی فراہم کر سکیں تاکہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل ہو سکے۔‘‘
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایک عورت کے ہاں اوسطاﹰ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تین اعشاریہ چھ جبکہ دنیا میں اوسطاﹰ ایک عورت کے ہاں بچوں کی پیدائش دو اعشاریہ چار ہے۔
آبادی کے مسئلے کے حوالے سے ڈاکٹر زکریا ذاکر کا مؤقف بہت منفرد ہے ان کی رائے ہے کہ آبادی میں اضافے کو سماجی اور اقتصادی ترقی سے زیادہ بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے، ’’جس کے پاس پیسے ہوں، زندگی کا کوئی مقصد ہو، اس کے پاس کرنے کو بہت سے کام ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اس کی ایک عمدہ مثال ہیں۔ ان کے بقول اس مسئلے کے حل کے لیے عورتوں کو با اختیار بنانا، ان کو تعلیم دینا، اور بچیوں کی کم عمری کی شادیوں سے اجتناب کرنا بہت ضروری ہے۔‘‘

تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں